چاول کی فصل پک کر تیار مگر منڈیوں میں خریدار خاموش کسانوں کی کروڑوں روپے مالیت کی فصل اور منڈیوں میں پڑی خراب ہونے لگی
چاول کی فصل پک کر تیار مگر منڈیوں میں خریدار خاموش کسانوں کی کروڑوں روپے مالیت کی فصل اور منڈیوں میں پڑی خراب ہونے لگی ملکی اور غیر ملکی چاول کے خریداروں کی عدم دلچسپی سے دنیا کے بہترین باسمتی چاول کے کاشتکاروں کو تیار فصل کی فروخت میں شدید دشواری کسان سراپا احتجاج .پاکستان کے باسمتی اقسام کے چاول اپنی خوشبو لذت اور معیار میں اپنی مثال آپ تصور کئے جاتے ہیں مگر ان چاولوں کو پیدا کرنے والے کاشتکاروں کو آڑھتیوں رائس ملز مالکان اور سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کاشتکار فصل کی کٹائی کروانے سے گریزاں ہیں کیونکہ مارکیٹ میں چاول کی فصل کے خریداروں نے اپنی مرضی سے انتہائی کم قیمت پر خریداری شروع کر دی ہے اور حکومت کی جانب سے چاول کی خریداری بند کئے جانے کےسبب پرائیویٹ سطح پر آڑھتیوں رائس ملز مالکان اور سرمایہ دار طبقے نے کاشتکاروں کا خون نچوڑنے کا عمل شروع کر دیا ہے. بہترین کوالٹی لذت اور معیاری خوشبودار ہونے کی وجہ سے امریکہ یورپ عرب امارات سعودی عرب اور روس تک عوام کی اولین پسند تصور کئے جاتے ہیں مگر اس سیزن حکومتی عدم توجہی کی بدولت پچھلے سال 55 سو روپے فی من فروخت کئے جانے والے چاول 35 سو روپے فی من تک مارکیٹ میں بکنے شروع ہیں جن ہزاروں کسانوں نے اپنی چاول کی فصل اونے پونے داموں فروخت کر دی ہے ان کو رقم ادا نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو گندم کی کاشت میں مشکلت درپيش ھے اور آڑھتیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں.