سٹیٹ بینک نے 2026ء کے لیے تین اہم ملکی بینک مقرر کردیئے۔یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک اور نیشنل بینک 2026ء کے نظامی لحاظ سے اہم بینک قرار
اسلام آباد۔ ( پی پی اے) بینک دولت پاکستان نے 2026ء کے لیے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کے تعین کا اعلان کردیا ہے۔ بینکوں کا تعین ’نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں‘ (ڈی-ایس آئی بی) کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے جسے اپریل 2018ء میں متعارف کرایا گیا اور دسمبر 2022ء میں اس میں ترمیم کی گئی تھی۔جاری بیان کے مطابق سٹیٹ بینک کا متعارف کردہ فریم ورک عالمی معیارات کے مطابق ہے اور اس میں مالی شعبے اور معیشت کی مقامی حرکیات کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ اس میں نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کی شناخت اور تعین کا طریقہ کار، ضابطہ کاری و نگرانی کے بہتر تقاضوں اور عمل درآمد کے لیے رہنما ہدایات طے کی گئی ہیں۔ان بہتر تقاضوں کا مقصد نظام کے لحاظ سے اہم بینکوں کی دھچکوں کے خلاف لچک کو مزید مضبوط کرنا اور ان کی انتظامِ خطر کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کی شناخت سالانہ بنیاد پر دو مراحل میں ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے میں مقداری اور معیاری پیمانوں پر ہر سال نمونے کے بینکوں کی شناخت کی جاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں نمونے کے ان بینکوں میں سے اداروں کے حجم، باہمی روابط، تبادلہ پذیری اور پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے نظامی سکور معلوم کرکے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کا تعین کیا جاتا ہے۔نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کے فریم ورک کے تحت سٹیٹ بینک نے بینکوں کے 31 دسمبر 2025ء تک کے مالی امور کی بنیاد پر سالانہ جانچ کی ہے۔جانچ کے مطابق تین بینکوں، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ اور نیشنل بینک آف پاکستان کو 2026ء کے لیے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینک متعین کیا گیا ہے۔یہ بینک ڈی-ایس آئی بی فریم ورک میں متعین کردہ نگرانی کی اضافی شرائط پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ سطح اول ایکویٹی (سی ای ٹی-ون) کے تقاضے پورے کرنے کے پابند ہوں گے، جن کا اطلاق 31 مارچ 2027ء سے ہوگا۔ اس کے تحت بکٹ ڈی میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے لیے سی ای ٹی-ون کی شرط 2.5 فیصد، بکٹ سی میں حبیب بینک لمیٹڈ کے لیے 1.5 فیصد اور بکٹ بی میں نیشنل بینک آف پاکستان کے لیے 1.0 فیصد مقرر کی گئی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان میں کام کرنے والے ’نظام کے لحاظ سے اہم عالمی بینک‘ اپنے بہ وزن خطرہ اثاثوں پر اضافی سی ای ٹی-ون سرمایہ اس شرح پر رکھیں گے جو فنانشل سٹیبلٹی بورڈ نے ان کے متعلقہ پرنسپل جی-ایس آئی بی کے لیے مقرر کی ہے۔سٹیٹ بینک نے معیشت کی پائیدار نمو میں معاونت اور مالی استحکام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈی-ایس آئی بی کا تعین نگرانی کے فریم ورک کے اہم اجزا میں سے ایک ہے اور یہ نظامی خطرات کی شناخت اور ان کے تدارک کے حوالے سے سٹیٹ بینک کی فعالیت کی عکاسی کرتا ہے۔