چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کی میڈیا سے گفتگو
گذشتہ تین دن سے اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی سرکس لگائی ہوئی ہےاس میں بدقسمتی سے کشمیر جیسے حساس موضوع کا بھی ذاتی مفادات کیلٗے استعمال کیا جا رہا ہے،55 سال بعد عمران خان کی کاوشوں کے باعث ایک نہیں 3 بار اقوامِ متحدہ میں کشمیر کا مسٗلہ اٹھایا گیا،محض کشمیریوں کی قربانیوں اور عمران خان کی وکالت کے سبب آج کشمیر عالمی فورمز میں بڑا ایشو بن چکا ہےاپنے انجام سے خوفزدہ اپوزیشن اب اپنی بقا کی آخری جنگ لڑرہی ہےعوام سے مسترد کئے جانے اور عدالتوں سے سزا پانے کےبعد اب اپوزیشن ملک کو ترقی کی راھ سے ہٹانے کیلئے سڑکوں پر آ نکلے ہیںانشااللہ اس بار بھی شکست انکا مقدر ہے۔مولانا فضل الرحمان دس سال کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے مگر انہوں نے کشمیر کو کبھی کسی فورم پر نہیں اٹھایا۔مولانا فضل الرحمان کی بدترین کارکردگی کے باوجود نواز لیگ اور پیپلز پارٹی نے کشمیر کمیٹی کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا ان تین جماعتوں نے چالیس سے پچاس سال اس ملک پر حکومت کی اور کشمیر کو سرد خانے میں ڈالے رکھاچیئرمین کشمیر کمیٹی کے لئے مختص 473.510 ملین کی رقم میں تنخواہیں اور گزارشات شامل ہیں,اس رقم کا استعمال چیئرمین کشمیر کمیٹی کو سھولیات فراہم کرنے کے لئے کیا جاتا ہے تاکہ وہ مؤثر طریقے سے کام کرسکیں،مولانا فضل الرحمان کے دس سالہ دور حکومت میں 472.510 ملین کی لاگت سے صرف 62 پریس ریلیز جاری کی گئیں۔اس قوم نے ہر پریس ریلیز کے لئے 76 لاکھ کی قیمت ادا کی،مولانا فضل الرحمان نے دو ماہ میں ایک پریس ریلیز جاری کی،دس سالوں میں دو بار مولانا فضل الرحمان کی ضرورت پڑی تب بھی وہ کشمیر کمیٹی کو میسر نہیں آئےمجبوراً اعجاز الحق کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کے قتل عام پر لابنگ کیلئے پارلیمانی وفد کی قیادت کرنا پڑی،قوم نے مولانا کو برقرار رکھنے کے لئے 47 کروڑ کی بھاری قیمت ادا کیٹی او آرز انجام دینا ان کا فرض تھا،تاہم قوم نے مولانا کو برقرار رکھنے کے لئے 47 کروڑ کی بھاری قیمتادا کی،چیئرمین کا فرض ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے لئے لابنگ کرکے نئی راہیں تلاش کرے،مولانا نواز شریف کی ویڈیوز کو کلبھوشن کیس میں بھارت کی جانب سے عدالتی سماعت کا حصہ بننے پر خاموش تھےمسلم لیگ ن کے مفرور نواز شریف کی آزادی رائے سے متعلق فکرمند ہے لیکن وہ مقبوضہ کشمیر میں سوا سال سے جاری انٹرنیٹ لاک ڈاؤن پر خاموش ہیں،جب ایک طرف ہمارے فوجی شہادتیں دے رہے ہیں نواز شریف بھارتی افواج کی مذمت تک نہیں کرسکتے،انہیں اپنے ذاتی مفادات کشمیر سے زیادہ عزیز ہیں۔وہ مودی اور جندال کو بغیر ویزہ اپنی نواسی کی شادی پر بلاتے ہیںانہیں آموں اور ساڑیوں کے تحائف بھیجتے ہیں مگر کشمیر پر بات کرتے انکی زبان جلتی ہےمریم اور بلاول جمہوریت کے پردے میں در اصل ابو بچاؤ مہم چلارہے ہیں۔
نواز شریف کے انکل غلام دستگیر نے مادر-ملت کی تضحیک کی مگر آج تک اس پر شرمسار نہیں،جب بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا تو نوازشریف ضیاالحق کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے،اقتدار کی ہوس میں آج بھٹو کا نواسہ اسی نواز شریف کے تلوے چاٹ رہا ہےمولانا نے بی بی کو کبھی بھی قائد کی حیثیت سے قبول نہیں کیا اور عورت ہونے کی وجہ سے طنزیہ تبصرے استعمال کیے،محسن داوڑ کل اسی اسٹیج پر پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھا تھا جس بلاول کے ابو نقیب اللہ شہید کے قاتل راو انوار کو اپنا بہادر بچہ کہہ کر گرفتار کرنے سے انکاری ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر پر دلیرانہ تقریر کرکے عالمی ضمیر کو جھنجوڑا تھا۔اقتدار کے حصول کیلئے چند مفادپرستوں کی اس ٹولی نے گذشتہ سال بھی یہی تماشہ اسلام آباد کی سڑکوں پر لگایا تھا