ملک میں یونیورسٹی اور انڈسٹری کے درمیان فاصلے کم کرنا وقت کی ضرورت ہے، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیومانڈسٹری کی ضروریات اور مستقبل کے چیلنجوں کو مد ِنظر رکھتے ہوئے سلیبس بنانے کی ضرورت ہے، مقرررینعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے اساتذہ اور طلبہ کی علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مائینڈ مارک لمیٹڈ اور ہرڈ فورڈشائرکرئیر ایکسلیٹر (HCA) کے ساتھ یک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ میں یونیورسٹی کے مختلف تدریسی شعبہ جات کے اساتذہ نے شرکت کی۔ جبکہ تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کی،ورکشاپ کے اغراض و مقا صد یونیورسٹی کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر ڈاکٹر لطیف گوندل نے پیش کیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ ملک میں صنعتی انقلاب لانے کے لیے انڈسٹری اور یونیورسٹی کے درمیان موجود فاصلوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے لیکن اس کے بغیر پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفیل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات ہم سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ جامعات میں پڑھائی کے علاوہ مختلف علوم کو تخلیق کیے جائیں۔مزید براں ملکی صنعت کاروں کو یونیورسٹی کے اساتذہ، تحقیقی اداروں اور محقیقین کے ساتھ اعتماد کا رشتہ استوار کرنے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری طرف جامعات کو ملکی صنعتوں کے ضرورت کے مطابق تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ہرٹ فورڈ شاٹر کرئیر ایکسلیٹر (HCA) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہینہ وحید نے کہا کہ دنیا اب ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے۔ اس لیے جامعات کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کی علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کو اس طرح ابھاریں کہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر کے اپنے لیے روز گار تلاش کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے ہر تدریس شعبے کو مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا سلیبس بنانے کی ضرورت ہے۔مائینڈ مارک لمیٹڈ(یو – ک)کے چیف ایگزیکٹو افیسر آصف راجا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت عمومی تعلیم کی بجائے سمارٹ ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔ورکشاپ کے شرکاء نے ریسورس پرسنز کے ساتھ مختلف تعلیمی اور تدریسی امور پر بات چیت کی۔