پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی

سر جڑی پاکستانی بہنیں صفا اور مروہ کامیاب آپریشن کے بعد وطن واپس آ گئیں

صفا اور مروہ بی بی کے تین بڑے آپریشن ہوئے اور انھوں نے 50 گھنٹے سے زیادہ وقت آپریشن تھیٹر میں گزارا۔

ان کی والدہ زینب بی بی نے بتایا کہ وہ خوش ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے باقی خاندان میں واپس لے کر آئیں ہیں۔

انھوں نے کہا ’لڑکیاں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مروہ نے اچھی پیشرفت کی ہے اور اسے صرف تھوڑی مدد کی ضرورت ہے۔‘

’ہم صفا پر نظر رکھیں گے اور اس کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کریں گے۔ خدا چاہے گا تو دونوں چلنا شروع کر دیں گی۔‘

ایک سے دو ہونا

دھڑ جڑے جڑواں بچے نہایت نایاب ہوتے ہیں اور ایسے پیدا پونے والے 20 جڑواں بچوں میں سے صرف ایک جوڑے کے سر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، جنھیں میڈیکل کی زبان میں ’کارنیوپیگس ٹوئن‘ کہا جاتا ہے۔ ان بچوں کی اکثریت بچین میں ہی دم توڑ دیتی ہے۔

گریٹ اورمنڈ سٹریٹ پسپتال کی 100 افراد پر مشتمل ایک ٹیم ان بچیوں کی دیکھ بھال میں شامل تھی۔

ان سر جڑی جڑواں بچیوں کو فروری 2019 میں الگ کیا گیا تھا اور تب سے وہ لندن میں اپنی ماں اور ماموں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ ایک پاکستانی تاجر مرتضیٰ لاکھانی ن آپریشن سمیت دیگر اخراجات کے لیے دس لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔

ان بچیوں کی عمر اب ساڑھے تین برس ہے اور باقاعدگی سے ان کی تھراپی جاری ہے تاکہ انھیں چلنے پھرنے میں مدد مل سکے تاہم دونوں کو سیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کی والدہ سرجری کرنے والی ٹیم کو ہیرو قرار دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ان کے باقی سات بچے صفا اور مروہ کی دیکھ بھال میں مدد کے خواہاں ہیں۔

اس سرجری کی سربراہی کرنے والے سرجن اویس جیلانی نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم اس خاندان کے لیے ’بہت خوش‘ ہیں۔

لیکن انھوں نے بتایا کہ اس سرجری کے نتائج کے بارے میں انھیں ابھی بھی کچھ شکوک ہیں۔

’مجھے لگتا ہے کہ مروہ نے واقعی میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جب میں پورے خاندان کو دیکھتا ہوں تو ہاں یہ شاید صحیح کام تھا لیکن صفا کے بارے میں مجھے اتنا یقین نہیں۔‘

اویس جیلانی جو ایک ایک انتہائی تجربہ کار نیورو سرجن ہیں، ابھی بھی اپنے تقریباً ناممکن انتخاب کی وجہ سے پریشان ہیں جو ان کی ٹیم کو آپریشن تھیٹر میں کرنا پڑا۔

سرجن کا مشکل فیصلہ

ان جڑواں بچیوں میں مشترکہ خون کی نالیاں تھیں جس سے ان دونوں کے دماغوں کی پرورش ہوتی تھی۔ ان جڑواں بچیوں میں سے صرف ایک کو خون کی بعض اہم رگیں دی جا سکتی تھیں اور یہ مروہ کو دی گئیں جو کہ پیدائشی طور پر کمزور تھیں۔

لیکن اس کے نتیجے میں صفا کو فالج ہو گیا جس سے اس کے دماغ کو مستقل نقصان پہنچا ہے اور شاید وہ کبھی نہیں چل سکیں گی۔

اویس جیلانی نے کہا کہ شاید یہ بات انھیں ہمیشہ پریشان کرتی رہے گی: ’یہ ایک فیصلہ ہے جو میں نے ایک سرجن کی حیثیت سے کیا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جو ہم نے ایک ٹیم کے طور پر کیا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس کے ساتھ ہمیں زندگی گزارنی ہے۔‘

ان کا خیال ہے کہ صفا اور مروہ کو اگر پہلے ہی الگ کر دیا جاتا تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ واضح رہے کہ اس سرجری اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کے لیے درکار فنڈز جمع کرنے میں کئی ماہ لگے تھے۔

جس کے بعد اویس جیلانی اور ان کے ساتھی سرجن سرجن ڈیوڈ ڈناوئے نے ’جیمینائی ان ٹوئنڈ‘ نامی ایک فلاحی ادارہ قائم کیا تاکہ کارنیوپیگس بچوں کو الگ کرنے کے اخراجات پورا کرنے کے لیے فنڈز اور اس بارے میں شعور کو بڑھایا جاسکے۔

جنوری 2020 میں، گریٹ اورمنڈ سٹریٹ پسپتال کی اسی سرجیکل ٹیم نے ترکی سے تعلق رکھنے والے جڑواں لڑکوں کو کامیاب آپریشن کے بعد الگ کیا تھا۔

یگت اور ڈرمین کے بھی تین آپریشن کیے گئے لیکن یہ عمل صفا اور مروہ کے مقابلے میں بہت تیز تھا۔ یہ جڑواں بچے اپنی دوسری سالگرہ سے قبل ہی ترکی واپس لوٹ گئے اور ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ان میں تیزی سے بہتری آئے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.