پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی

لنگر خانوں کی بجائے کارخانوں پر توجہ ہوتی تو آج موجودہ معاشی صورتحال ایسی نہ ہوتی

لنگر خانوں کی بجائے کارخانوں پر توجہ ہوتی تو آج موجودہ معاشی صورتحال ایسی نہ ہوتی امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحقپناہ گاہوں کٹوں مرغی اور انڈا اور انڈوں کا ویژن رکھنے والی حکمران جماعت زراعت اور صنعت تباہ کر کے رکھ دی ہےنیب کے پاس پڑی میگا اسکینڈل کی 150 فائلیں سڑ رہی ہیں ہیں یہ غریب ہوتے تو آج جیلوں میں ہوتے کوٹا میں جلسہ عام سے خطابسراج الحق نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی واضح فرق نہیں ہے دونوں اداروں کو بد نام کرنے کے لیئے اپنے اپنے بیانیے سے متنازع بنا رہی ہیںاقتدار برائے اقتدار مفادات کا نظریہ ہے جبکہ ملک کا جمہور نظریہ عوام دیکھنا چاہتی ہے حکمران اور اپوزیشن اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ ملک کے نظریے کو عملی طور پر دفن کردیا گیا ہےاللہ تعالی نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا مگر سودی نظام آئی ایم ایف ورلڈ بینک کے قرضوں نے جکڑ کر ملک کی عوام کو قرضوں کے شکنجے میں جکڑ دیا جس کے باعث ان کی تعلیم روزگار صحت اور انصاف چھین لیا گیا ہےجماعت اسلامی کی لڑائی جنگ جبر و ظلم و استحصال سے ہے وہ پاکستان میں ایک فلاحی اسلامی ریاست بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے جہاں سودی نظام نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے بنائے ہوئے نظام سے معیشت چلائے گیجن پارٹیوں کے اپنے اندر جمہوریت نہیں وہ جمہوریت کی بحالی کا دعویٰ کیسے کرسکتی ہیں‘ جماعت اسلامی ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلانے اور جمہور کی حکمرانی قائم کرنا کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت مہنگائی اور بے روز گاری کے خاتمہ اور امن و امان کے قیام میں ناکام ہوچکی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہوٹہ میں شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ سے شمالی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے ‘ ہماری سیاست کی بنیاد اسلام اور نظریہ پاکستان پر ہے۔ پاکستان کی نظریاتی شناخت کو قائم رکھنا ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لنگر خانوں ، پناہ گاہوں اور کٹے ،مرغی اور انڈوںکی معیشت کا وژن رکھنے والی حکومت نے زراعت ،صنعت اور معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ حکومت لنگر خانوں کے بجائے کارخانے بنانے کی طرف توجہ دیتی تو لاکھوں نوجوانوں کو روز گار دیا جاسکتا تھا مگر حکومت نے نوجوانوں کونوکریاں دینے کے بجائے انہیں ٹائیگر بنا دیا اب وہ مرغیاں اورکٹے ڈھونڈ رہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ احتساب کے بے لاگ اور بے رحم نظام کے بغیر بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت بڑے چوروں کے احتساب کے حوالے سے بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ نیب کی الماریوں میں کرپشن کے150 میگا اسکینڈل کی فائلیں پڑی گل سڑ رہی ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.