پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی

پاکستان میں چاول کی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر. پاکستان کا چاول پوری دنیا میں اپنی مخصوص خوشبو اور ذائقہ کے لحاظ سے مانا جاتا ہے. خاص کر پاکستانی باسمتی چاول نے یورپ میں انڈیا کے چاول کو پیچھے چھوڑ دیا ہے. ا

پاکستان میں چاول کی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر.
پاکستان کا چاول پوری دنیا میں اپنی مخصوص خوشبو اور ذائقہ کے لحاظ سے مانا جاتا ہے. خاص کر پاکستانی باسمتی چاول نے یورپ میں انڈیا کے چاول کو پیچھے چھوڑ دیا ہے.
اس سال پاکستان کے کاشتکاروں نے اللہ کی رحمت سے بھرپور محنت کر کے چاول کی بمپر فصل حاصل کی.
رائس ڈیلرز نے کاشتکاروں سے سپری 86. چناب سپر .1509. ہائبرڈ. سپر فائن . اری 6 اور اری9 اچھے نرخوں سے خرید کی. یہ نان باسمتی ورائٹی 1900 تک بھی خرید کیئں .
رائس ڈیلرز نے اس امید پر نان باسمتی ورائٹی کاشتکاروں سے مہنگے داموں خریدیں کہ وہ کائنات اور سپر کی آمد سے قبل انکا چاول فروخت کر دیں گئے. مگر چاول تیار ہوا تو دھان کے برعکس چاول کا ریٹ بہت کم نکلا. تقریبا ہر رائس ملرز کو نان باسمتی چاول سے فی 40 کلو 500 روپے خسارے کا سامنا ہے.
اب جب کہ کائنات اور سپر کی بھرپور فصل مارکیٹ میں آ رہی ہے تو رائس ملرز میں سکت نہیں ہے کہ وہ باسمتی ورائٹی دھان خرید کر سکے.
اس وجہ سے سپر اور کائنات کی فصل منڈیوں میں رل رہی ہے. خریدار غائب ہے.
اس سارے معاملے میں حکومت خاموش ہے. چاول کی ایکسپورٹ کی جانب کو ئی توجہ نیہں دی جارہی. حکومت اگر چاہیے تو افغانستان اور ایران کے تجارتی باڈر کھول کر چاول کی تباہ ہوئی صنعت کو بچا سکتی ہے. چاول کی صنعت سے کروڑوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے.
پاکستان چاول کی صنعت کی تباہی کا متحمل نہیں ہو سکتا. اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر چاول کی ایکسپورٹ کی جائے.خاص کر ہنگامی بنیادوں پر افغانستان اور ایران کے تجارتی باڈر کھول دیے جائیں.اگر ایسا نہ کیا گیا تو چاول کی صنعت کی تباہی کے ساتھ ساتھ کروڑوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گئے. کاشت کار آناج کی

Leave A Reply

Your email address will not be published.