پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی

کراچی ۔ حکومتی نااہلی یا ادارے کے سربراہان کی کارستانی

کراچی ۔ حکومتی نااہلی یا ادارے کے سربراہان کی کارستانی

حکومت پر اسٹیل امپورٹ مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے کا الزام اسٹیل ملز کو کوڑیوں کے مول خریدنے کے لیے ااثرکنسورشیم” ایک بار پھر متحرک ، انکشاف بااثراسٹیل امپورٹ مافیا کو کابینہ میں بیٹھے بعض بااثر وزراء اور مشیروں کی حمایت حاصل ہے،ذراءع عائشہ اسٹیل کے رزاق داؤد اسٹیل ملز کے خریدارکے طورپرسامنے آگءے،ذراءع

کراچی : حبکو کے عارف حبیب بھی اسٹیل مل کی خریداری کے لیے امیدواربن گءے،کراچی : اسٹیل ملزکے قریب واقع الطوارقی اسٹیل ملزکے امریکی سرمایہ کاربھی خریدار ہیں، 2007-2008 میں سالانہ 9.54 ارب روپے کا منافع دینے والی اسٹیل ملز اچانک مالی بحران کا شکار کیسے . 2006 میں ملازمین کے شدید احتجاج پر اسٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ تو ختم ہوا مگر مل بند ہونے کے راستے کھلتے گئے. حکومت نے ملازمین کو گھربھیجنے سے قبل ہرملازم کو اوسطاً کل تیئیس لاکھ روپے پرمشتمل گولڈن ہینڈ شیک پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا یک جنبش قلم اسٹیل ملز کے حاضر سروس ملازمین کو جبری برطرف کرنے کے اعلان سے کشیدگی پیدا ہوءی . حاضر سروس ملازمین کو 20 ارب کے قریب پیکج کی آس دلاکر فارغ کرنے کی تجویز تھی. اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان اسٹیل ملز کے 9350 ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کی منظوری دی . پاکستان اسٹیل ملز سے 4 ہزار 544 ملازمین کوبذریعہ ڈاک برطرفی کے خطوط ارسال کئے گئے. جبری طور پر برطرف کئے گئے ملازمین میں گریڈ 2، 3، 4 کے ملازمین کے علاوہ جونیئر آفیسرز (جے اوز) اسسٹنٹ منیجرز، ڈویژنل منیجر، ڈی سی ای، ڈی جی ایم اور منیجرزشامل ہیں .قانونی طریقہ کار کے بغیر 9350 ورکرز کو برطرف کرنے کا یک طرفہ اعلان کر کے مروجہ لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی گءی. ملازمین کا کہنا ہے کہ وزارتِ صنعت نے دباؤ ڈال کر ربڑ اسٹیمپ بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ورکرز کو برطرف کرنے کا فیصلہ لیا اور پھر کابینہ سے اس کی منظوری لی. اسٹیل ملزکی نجکاری کا فیصلہ 2006 میں کیا گیا. وزیراعظم شوکت عزیز نے سال 2006ء میں اسٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ کیا. اسٹیل مل کی نجکاری کے لیے 3کمپنیوں پرمشمتل ایک کنسورشیم بنایا گیا , نجکاری پرعملدرآمد سے قبل غیر معروف وطن پارٹی نے عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کردی . عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے اسٹیل مل کی نجکاری کے خلاف فیصلہ دے دیا . اسٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے کا حکم دیا گیا. چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکومت کی پرانی اپیل کو دوبارہ سننے کے لیے 9 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا. اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف کے مابین 6.7 ارب ڈالر قرضہ کے بدلے دیگر شرائط کے علاوہ اسٹیل ملز کی نجکاری معاہدے میں شامل تھی.جولائی 2017ء تک اسٹیل ملز کا خسارہ 177 ارب سے تجاوزکرگیا تھا.اسٹیل ملزبند ہونے کی وجہ سے ہر ماہ 1.4 ارب روپے کا خسارہ ہورہا ہے. پاکستان اسٹیل 19000 ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا پروجیکٹ ہے , 10 ہزار ایکڑ اسٹیل کی پیداوار کے مختلف پلانٹ پر مشتمل ہے , 8 ہزار ایکڑ رقبے پر رہائشی مکانات بنے ہوئے ہیں۔  200ایکڑ پر ایک بڑا ذخیرہ آب موجود ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.