ایمیلیانو مارٹینیز 75 لاکھ پاؤنڈ میں چیلسی منتقل، دونوں کلبوں کے درمیان 4 سال میں 8واں معاہدہ
لندن (اے پی پی) ارجنٹائن کے عالمی کپ فاتح گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز 75 لاکھ پاؤنڈ کے عوض آسٹن ولا سے چیلسی منتقل ہوگئے۔ 33 سالہ گول کیپر نے چیلسی کے ساتھ تین سالہ معاہدہ کرلیا ہے۔بی بی سی کے مطابق ایمیلیانو مارٹینیز نے 2020 میں آرسنل سے آسٹن ولا میں شمولیت اختیار کی تھی اور کلب کی جانب سے 256 میچز کھیلے۔ گزشتہ سیزن میں انہوں نے آسٹن ولا کو یوروپا لیگ جیتنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔چیلسی سے معاہدے کے بعد مارٹینیز نے کہا کہ وہ کلب میں شمولیت پر انتہائی خوش ہیں اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیلسی ٹائٹل جیتنے کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ بھی ہر مقابلے میں کامیابی کے خواہاں ہیں۔مارٹینیز کی چیلسی منتقلی گزشتہ ہفتے نکولس جیکسن کے چیلسی سے آسٹن ولا جانے کے بعد ہوئی ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران پریمیئر لیگ کے کسی بھی دو کلبوں کے درمیان مستقل یا قرض پر کھلاڑیوں کی منتقلی کے حوالے سے چیلسی اور آسٹن ولا کے درمیان سب سے زیادہ کاروباری معاملات ہوئے ہیں۔دونوں کلبوں کے درمیان یہ سلسلہ 2022 میں شروع ہوا، جب چیلسی کے مالکان نے آسٹن ولا سے کارنی چکوویمیکا کو 20 لاکھ پاؤنڈ میں حاصل کیا۔ اس کے بعد ایان ماتسن 3 کروڑ 75 لاکھ پاؤنڈ میں آسٹن ولا، عماری کیلی مین ایک کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈ میں چیلسی اور ایکسل ڈساسی 50 لاکھ پاؤنڈ کی قرض فیس پر آسٹن ولا منتقل ہوئے۔رواں موسم گرما میں دونوں کلبوں کے درمیان مزید چار معاہدے ہوئے۔ مورگن راجرز 11 کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ میں چیلسی منتقل ہوئے، جبکہ الیخاندرو گارناچو تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے مشروط معاہدے کے تحت قرض پر آسٹن ولا کا حصہ بنے۔ اس کے بعد نکولس جیکسن 6 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ میں آسٹن ولا منتقل ہوئے اور اب مارٹینیز نے چیلسی کا رخ کرلیا ہے۔2022 سے اب تک چیلسی نے آسٹن ولا سے کھلاڑیوں کی خریداری پر 16 کروڑ 35 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے ہیں، جبکہ آسٹن ولا نے چیلسی کے کھلاڑیوں پر 10 کروڑ 25 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے ہیں۔ گارناچو کے معاہدے کو مستقل بنانے کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں یہ رقم 15 کروڑ 5 لاکھ پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔دونوں کلبوں کے درمیان کھلاڑیوں کی لین دین کا سلسلہ اس سے قبل بھی موجود رہا ہے، تاہم حالیہ چار سال میں غیر معمولی تعداد میں ہونے والے معاہدوں نے پریمیئر لیگ کے دیگر کلبوں کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ بعض کلب حکام نے معاملات کی تکرار پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم دونوں کلبوں کی جانب سے کسی ضابطے کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت یا الزام سامنے نہیں آیا