پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی

یو ایس ایف پاکستان کی ایک ارب ڈالر سے زائد سبسڈیز کا سنگ میل عبور کرنے کا اعلان

ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کیلئے علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار پالیسی فریم ورک ناگزیر ہیں، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ

اسلام آباد (پی پی اے) ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی اے پی ٹی کے زیر اہتمام ڈیجیٹل تبدیلی اور یونیورسل سروس فنڈ کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا افتتاح اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوگیا سمپوزیم میں ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ پائیدار ترقی اور دور دراز و پسماندہ علاقوں تک جدید مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کیلئے علاقائی تعاون پر زور دیا گیا افتتاحی سیشن میں یونیورسل سروس کے روایتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا جس میں بنیادی مواصلاتی سہولیات کے ساتھ تیز رفتار فائبر نیٹ ورکس سیٹلائٹ رابطوں اسمارٹ فونز کی سستی فراہمی اور دیہی علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی کانفرنس کی میزبانی وزارتِ اطلاعات و نشریات و ٹیلی کمیونیکیشن اور یو ایس ایف پاکستان ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سیکریٹریٹ کے تعاون سے کر رہے ہیں سمپوزیم میں ایشیا پیسیفک خطے کے اعلیٰ سطح کے پالیسی ساز ٹیلی کام ریگولیٹرز صنعت کے سربراہان اور بین الاقوامی مندوبین شرکت کر رہے ہیں افتتاحی تقریب کی مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے پاکستان کی پائیدار اور جامع ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے صرف کوریج کی کمی دور کرنا کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل سہولیات کے استعمال میں موجود خلا کو بھی ختم کرنا ضروری ہے ڈیجیٹل رسائی معاشی بااختیاری اور سماجی ترقی کا اہم ذریعہ ہے انہوں نے کہا کہ اے پی ٹی ٹوکیو اسٹیٹمنٹ 2025 کی روشنی میں پاکستان اپنے پالیسی فریم ورک کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے تاکہ دور دراز اور دیہی علاقوں کے شہریوں کو تیز رفتار فائبر بیک ہال سستے اسمارٹ فونز اور مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کیے جاسکیں وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ یو ایس ایف پاکستان نے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی معاہدہ شدہ سبسڈیز کا تاریخی سنگ میل عبور کرلیا ہے ان کے مطابق یہ پیش رفت ملک بھر کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی اور ڈیجیٹل انقلاب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ماسانوری کونڈو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی معیشتوں اور معاشروں کو تبدیل کر رہی ہے ایشیا پیسیفک خطہ فائیو جی سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہا ہے جس کے باعث ڈیجیٹل محرومی کا مسئلہ صرف نیٹ ورک کی عدم دستیابی تک محدود نہیں رہا بلکہ معیاری اور سستی سہولیات تک رسائی بھی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے انہوں نے زور دیا کہ یونیورسل سروس فنڈز کیلئے جدید، لچکدار اور نتائج پر مبنی پالیسی فریم ورک اپنانا ہوگا علاقائی تعاون اور یکساں ضابطہ جاتی اقدامات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ کوئی ملک جزیرہ یا دور دراز علاقہ ڈیجیٹل ترقی میں پیچھے نہ رہ جائے یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر چوہدری مدثر نوید نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ماضی میں یونیورسل سروس فنڈ کی کارکردگی کا اندازہ دور دراز علاقوں میں نصب کیے جانے والے ٹاورز کی تعداد سے لگایا جاتا تھا تاہم اب بامعنی رابطوں کیلئے تیز رفتار فائبر نیٹ ورکس بنیادی ڈھانچے میں شراکت داری اور عوام کی ڈیجیٹل رسائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن اور وفاقی وزیر آئی ٹی کی رہنمائی میں یو ایس ایف ان علاقوں تک مواصلاتی سہولیات پہنچانے کیلئے کام کر رہا ہے جہاں تجارتی بنیادوں پر ٹیلی کام کمپنیاں خدمات فراہم نہیں کرتیں ان کے مطابق یو ایس ایف اب تک 169 ارب روپے سے زائد کی سبسڈیز کے ذریعے 185 میں سے 158 منصوبے مکمل کرچکا ہے جن سے ملک بھر میں تین کروڑ 84 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوچکے ہیں سمپوزیم کی تین روزہ نشستوں میں اے پی ٹی وزارتی کانفرنس 2025 کے ٹوکیو اسٹیٹمنٹ کی روشنی میں ڈیجیٹل ترقی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے گا ان میں دیہی اور پسماندہ علاقوں تک تیز رفتار اور قابلِ اعتماد فائبر نیٹ ورکس کی توسیع مصنوعی ذہانت سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی فائیو جی اور سکس جی ٹیکنالوجیز اور کلاؤڈ سروسز کی فراہمی شامل ہے اس کے علاوہ اسمارٹ فونز کی آسان اقساط پر فراہمی پائیدار مالیاتی نظام، رائٹ آف وے کے یکساں قوانین اور حکومتوں ریگولیٹرز یو ایس ایف انتظامیہ ٹیلی کام آپریٹرز اور مقامی برادریوں کے درمیان تعاون کو بھی زیر بحث لایا جائے گا سمپوزیم کے پہلے روز 13 اکتوبر کو پائیدار ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے یونیورسل سروس کے مستقبل کو محفوظ بنانا کے عنوان سے اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ منعقد ہوا جس میں وزارتِ آئی ٹی پاپوا نیو گنی جاز اور نیاٹیل کے نمائندوں نے شرکت کی دوسرے روز 14 اکتوبر کو دشوار گزار علاقوں میں مواصلاتی بنیادی ڈھانچے شمسی توانائی انفراسٹرکچر شیئرنگ اور خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کے موضوعات پر نشستیں ہوں گی جبکہ تیسرے روز 15 اکتوبر کو دیہی علاقوں میں مصنوعی ذہانت کیلئے تیاری سمندری کیبلز اور مواصلاتی نظام میں ممکنہ تعطل سے بچاؤ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا آخری روز علاقائی سفارشات پر مشتمل منشور کی منظوری کیلئے بھی پیش رفت متوقع ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.