قائداعظم کا کردار اور عزم ہی تحریک پاکستان کی اصل طاقت تھے، چوہدری شہباز حسین
جدہ میں قائداعظم لیکچر سیریز، نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ اور افکار سے روشناس کرانے پر زور
جدہ (محمد اکرم اسد) سابق وفاقی وزیر و سماجی رہنما چوہدری شہباز حسین نے کہا ہے کہ اگر قائداعظم محمد علی جناحؒ محدود وسائل اور کمزور صحت کے باوجود عوامی طاقت جس میں طالبعلم انکا ہراول دستہ تھے کے ساتھ دنیا کا نقشہ بدل سکتے ہیں تو ہم جدید سہولتوں کے ساتھ اپنے پاکستان کو عظیم کیوں نہیں بنا سکتے وہ پاکستان قونصلیٹ جنرل جدہ میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ڈیڑھ سو سالہ سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ لیکچر سیریز قائداعظم محمد علی جناح سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب کا اہتمام قونصلیٹ جنرل نے قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا تھا، جس میں پاکستان انٹرنیشنل اسکولز کے طلباء و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب کی صدارت قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے کی چوہدری شہباز حسین نے کہا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو بتانا ہوگا کہ پاکستان محض زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں قربانیوں اور ایک عظیم خواب کی تعبیر ہے۔ قائد نے ہمیں ایمان اتحاد اور نظم و ضبط کا درس دیا اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ذرا تصور کیجیے آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، ہزاروں ٹی وی چینلز، کروڑوں موبائل فونز اور سوشل میڈیا کی طاقت موجود ہے اس کے باوجود مینار پاکستان کے میدان کو بھرنا بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے چیلنج بن جاتا ہے لیکن 23 مارچ 1940 کو جب نہ ٹیلی ویژن تھا، نہ موبائل، نہ انٹرنیٹ، برصغیر کے کونے کونے سے ہزاروں لوگ منٹو پارک لاہور میں کیسے جمع ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وہ طاقت کرسی نہیں، کردار تھا یہ تاریخی حقیقت ہے کہ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب میں برسراقتدار نہیں تھی، وہاں یونینسٹ پارٹی کی حکومت تھی صوبہ سرحد میں بھی مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی اور بلوچستان اس وقت باقاعدہ صوبہ بھی نہیں تھا۔ قائداعظم کے پاس نہ حکومتی مشینری تھی، نہ سرکاری وسائل اگر کچھ تھا تو کردار کی سچائی، دلیل کی قوت اور قوم کا اندھا اعتماد تھا یہ اجتماع کسی سرکاری حکم کا نہیں، بلکہ آزاد وطن کے خواب سے محبت کا اظہار تھا انہوں نے کہا کہ اُس دور میں سفر ایک آزمائش تھا سڑکیں ناپید سواریاں خال خال تھیں، جہلم سے لاہور اور عارف والا تک کا سفر دنوں میں طے ہوتا تھا کوئی ریل میں، کوئی بس کی چھت پر، کوئی تانگے پر اور کوئی پیدل آتا تھا، سہولتیں کم تھیں مگر دلوں میں آزادی کی تڑپ بے پناہ تھی ان کا کہنا تھا کہ آج ایک واٹس ایپ پیغام لمحوں میں لاکھوں تک پہنچ جاتا ہے مگر اُس وقت خط، اخبار اور تار ہی ذریعہ تھے، پھر بھی تحریک پاکستان کا پیغام شہر سے قصبے اور گاؤں گاؤں تک پہنچا کیونکہ بات سچی تھی اور قائد سچا تھا قائداعظم کی صحت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظم اپنی بگڑتی صحت سے باخبر تھے، جسم کمزور تھا مگر ارادہ چٹان سے زیادہ مضبوط تھا، انہوں نے اپنی بیماری کو منزل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور اپنی زندگی، آرام اور صحت قوم پر قربان کر دی، یہی اصل قیادت ہے آخر میں انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان ہماری تاریخ کی یادگار ضرور ہے، لیکن وہاں جمع ہونے والے لوگ صرف جلسہ کرنے نہیں آئے تھے، وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور نسلوں کی آزادی کا خواب لے کر آئے تھے، قائد کی اصل یادگار مینار پاکستان نہیں بلکہ وہ پاکستان ہے جو انہوں نے ہمیں دیا، اور اس پاکستان کو مضبوط، خوشحال، تعلیم یافتہ اور باوقار بنانا ہی قائداعظم کو ہمارا حقیقی سلام ہوگا اور یہی پیغام نئی نسل لیکر آگے بڑھے اور قائد کے افکار “ایمان، اتحاد اور تنظیم پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو ناقابل تخسیر بنائیں، انہوں نے آخر میں قونصل جنرل مصطفیٰ ربانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اسطرح کی لیکچر سیرز منعقد کرتے رہنا چاہیئے تاکہ قائد کا پیغام اور پُرامن جدوجہد نئی نسل تک منعقد ہو، اس موقع پر قونصل جنرل کو خصوصی شیلڈ پیش کی