پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے نقشوں پر براعظموں کے درست حجم کی عکاسی کی قرارداد منظور کرلی

اقوام متحدہ ( پی پی اے) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے نقشوں پر براعظموں، خصوصاً افریقہ، کے باہمی حجم کی زیادہ درست اور متوازن عکاسی کے لیے نئی قرارداد منظور کرلی ہے۔ امارتی نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی ریکارڈ شدہ ووٹنگ میں 107 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد میں عالمی نقشہ سازی کے نظام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے بعض نقشہ جاتی طریقے، خصوصاً مرکیٹر پروجیکشن، خطِ استوا سے دور علاقوں کے حجم کو نسبتاً مسخ کرتے ہیں، جس کے باعث افریقہ اور عالمی جنوب کے دیگر حصے اپنے حقیقی رقبے سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ قرارداد کے مطابق 16ویں صدی میں سمندری سفر اور جہاز رانی کے لیے تیار کیا گیا مرکیٹر پروجیکشن ان مسخ شدگیوں کے باوجود تعلیمی، میڈیا، ڈیجیٹل اور سرکاری مواد میں اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ جنرل اسمبلی نے تسلیم کیا کہ نقشوں میں یہ مسخ شدگیاں محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ براعظموں کے باہمی حجم کے بارے میں تعلیمی، ثقافتی، جغرافیائی سیاسی اور معاشی تصورات کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔ قرارداد میں ان غلط نمائندگیوں کی اصلاح سے جغرافیہ کے بارے میں زیادہ درست فہم پیدا کرنے اور تاریخی تعصبات سے نمٹنے میں مدد ملنے پر زور دیا گیا ہے۔ قرارداد میں ایکول ارتھ میپ پروجیکشن کے استعمال کی حمایت کی گئی ہے، جو براعظمی زمینی رقبوں کے حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ رکن ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور متعلقہ اداروں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ جہاں براعظموں کے حجم کی درست نمائندگی ضروری ہو وہاں مساوی رقبے والے نقشہ جاتی طریقوں کو اپنائیں۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کے اداروں، جن میں یونیسکو، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام اور گلوبل جیو اسپیشل انفارمیشن مینجمنٹ سے متعلق اقوام متحدہ کی ماہرین کمیٹی شامل ہیں، سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افریقی یونین اور علمی و تحقیقی حلقوں کے ساتھ مل کر نقشہ سازی اور جغرافیائی معلومات کے شعبے میں زیادہ درست معیارات اور طریقہ کار وضع کریں۔ قرارداد میں ممالک کو سکولوں کے نصاب میں نقشہ سازی کے اصولوں سے متعلق تنقیدی تعلیم شامل کرنے اور تعلیمی و سائنسی اداروں اور میڈیا میں مختلف نقشہ جاتی طریقوں سے پیدا ہونے والے تعصبات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ یہ قرارداد افریقی ممالک کے ایک گروپ کی جانب سے اگست میں مسودہ پیش کیے جانے کے بعد منظور ہوئی۔ تاہم اس میں روایتی مرکیٹر پروجیکشن کے استعمال پر پابندی عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی ممالک کو ایکول ارتھ میپ پروجیکشن اپنانے کا پابند بنایا گیا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.