وزیراعظم کا آئی ایم ایف اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ معاشی استحکام کے بعد پاکستان پائیدار بحالی کی جانب گامزن ہے، شہباز شریف
نیویارک ( پی پی اے) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد کے لیے حکومت کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی تنازعات اور بیرونی مہنگائی کے دباؤ کے باوجود پاکستان محتاط مالیاتی اور زری پالیسیوں کی بدولت معاشی استحکام سے معاشی بحالی کی جانب کامیابی سے گامزن ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے پاکستان کی معیشت کے لیے آئی ایم ایف کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے اصلاحاتی پروگرام پر کامیاب عملدرآمد کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تعمیری شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں منیجنگ ڈائریکٹر کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور معیشت کو مستحکم بنانے، پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کی بنیادیں استوار کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ شہباز شریف نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی مالیاتی ذخائر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹیرف نظام، ملکی محصولات میں اضافے کے اقدامات اور نجکاری کے عمل میں پیش رفت حکومت کی اقتصادی اصلاحات کے اہم حصے ہیں۔ انہوں نے معاشی اصلاحات کے ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے حکومتی عزم پر بھی زور دیا۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی اور معاشی استحکام کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں ٹھوس نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ملاقات میں پاکستان کے آئندہ آئی ایم ایف پروگرام جائزے، اصلاحات کو آگے بڑھانے، ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے