نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے بھارتی فلمی دنیا سوگوار
اسلام آباد ( عبدالماجد)بے باک بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے بھارت کے سینئر اداکار نانا پاٹیکر، جو اسٹیج اور فلموں میں اپنی پُرجوش شدید اور جذبات سے بھرپور اداکاری کے لیے مشہور تھے، ریاست گوا میں 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے نانا پاٹیکر بھارتی سنیما کے نمایاں ترین چہروں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے تین نیشنل فلم ایوارڈز حاصل کیے اور ایسے مشکل پیچیدہ اور اکثر شدید مزاج کرداروں کی وجہ سے شہرت پائی جنہیں ادا کرنا ہر اداکار کے بس کی بات نہیں وہ مراٹھی زبان کے سنیما اور تھیٹر کی بھی ایک نمایاں شخصیت تھے 8 ستمبر کی علی الصبح گوا میں اپنے گھر پر بے ہوشی کی حالت میں پائے جانے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اداکار کے اہلِ خانہ دوستوں اور مداحوں نے ان کی آخری دیدار کے لیے گوا میڈیکل کالج میں حاضری دی۔ اس کے بعد ان کی آخری رسومات اسی روز بعد میں ریاستی اعزاز کے ساتھ مہاراشٹر کے شہر پونے میں واقع ان کے فارم ہاؤس پر ادا کی جانی تھیں شام کے وقت ان کی میت کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے پونے پہنچایا گیا، جہاں ریاست کے وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اس کے بعد نانا پاٹیکر کی میت کو ڈونجے گاؤں میں واقع ان کے فارم ہاؤس لے جایا گیا جہاں آخری رسومات ادا کرنے کے بعد انہیں سپردِ خاک کرنے کے بجائے نذرِ آتش کیا گیا، یعنی ان کی آخری رسومات ہندو مذہبی طریقے کے مطابق ادا کی گئیں نانا پاٹیکر نے 1978ء میں فلم گمن سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور اس کے بعد متعدد فلموں میں چھوٹے کردار ادا کرتے رہے تاہم، پردۂ سیمیں پر ان کی اداکاری کی شدت اور اثر انگیزی ایسی تھی کہ انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ بالآخر 1989ء میں انہیں فلم پرندہ میں اہم کردار ملا جس نے انہیں پورے بھارت میں گھر گھر پہچان دلائی اس فلم میں گینگسٹر انا کا کردار ادا کرنے پر انہوں نے اپنا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کیا اس کامیابی کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور 1990ء کی دہائی میں کئی یادگار کردار ادا کیے۔ انہوں نے مختلف النوع کرداروں کے ذریعے اپنی اداکاری کی گہرائی، فن پر مہارت اور غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت دیا. ان کی فلموں کے مشہور مکالمے، جو وہ اپنی منفرد، بھاری اور کھردری آواز میں ادا کرتے تھے، اسکولوں کی راہداریوں سے لے کر چائے کے ہوٹلوں تک لوگوں کی زبانوں پر رہتے تھے۔ آج بھی بہت سے پیشہ ور مزاحیہ فنکار ان کے مخصوص اندازِ گفتگو اور مکالموں کی نقل کرتے ہیں. جب ناقدین یہ سمجھنے لگے کہ بلند آہنگ اور غصے سے بھرپور کردار ہی نانا پاٹیکر کی اصل پہچان ہیں تو انہوں نے فلم خاموشی میں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کرکے سب کو حیران کر دیا جو نہ سن سکتا تھا اور نہ بول سکتا تھا اس فلم میں ان کی دل موہ لینے والی اداکاری نے ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں محض بلند آواز اور سخت مزاج کرداروں تک محدود نہیں تھیں نانا پاٹیکر کے طویل فلمی سفر سے ان کے فن کی وسعت اور تنوع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے انہوں نے ایک بدنام زمانہ گینگسٹر سے لے کر ایک پولیس افسر تک، بالکل مختلف اور ایک دوسرے سے متضاد کردار یکساں مہارت کے ساتھ ادا کیے۔ وہ بعض اوقات کیمرے کے پیچھے بھی کام کرتے رہے اور ہدایت کاری و تحریر کے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا فلموں پرندہ کرانتی ویر اور اگنی ساکشی کے لیے حاصل کیے گئے ان کے تین نیشنل فلم ایوارڈز ان کے متنوع اور قابلِ ذکر فلمی کیریئر کا منہ بولتا ثبوت ہیں نانا پاٹیکر مراٹھی اور ہندی تھیٹر کی بھی ایک بااثر شخصیت تھے۔ فلموں میں قدم رکھنے سے پہلے وہ تھیٹر سے وابستہ تھے جہاں انہوں نے مکالمے ادا کرنے کا اپنا منفرد، حقیقت سے قریب اور پُراثر انداز پروان چڑھایا اسی دوران انہوں نے جذبات کی شدت کو کرداروں میں سمو دینے کا فن بھی سیکھا جس نے بعد میں پردۂ سیمیں پر ان کی اداکاری کو ایک الگ پہچان دی ان کے دو مشہور ڈراموں میں پُرُش اور حمیدابائی چی کوٹھی شامل تھے فلمی دنیا میں کامیابی اور شہرت حاصل کرنے کے باوجود وہ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران تھیٹر سے وابستہ رہے نانا پاٹیکر سماجی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے اور حکومتِ وقت پر تنقید کرتے ہوئے اپنے الفاظ کا انتخاب نرمی سے نہیں کرتے تھے۔ وزرا اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے وقت ان کا انداز براہِ راست بے باک اور دوٹوک ہوتا تھا۔ وہ اپنی تنقید پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے اور اکثر یہ سب کچھ عوامی سطح پر کرتے تھے